انتخاب
  • متفرق
  • فیض احمد فیض
  • احمد فراز

فاریحہ نگارینہ

4/2/2014

0 Comments

 
فاریحہ نگارینہ
تم نے مجھ کو لکھا ہے
میرے خط جلا دیجئے
مجھ کو فکر رہتی ہے
آپ انھیں گنوا دیجئے
آپ کا کوئی ساتھی
دیکھ لے تو کیا ہوگا
دیکھئے میں کہتی ہوں
یہ بہت بُرا ہوگا

میں بھی کچھ کہوں تم سے
فاریحہ نگارینہ؟
اے بنازکی مِینا
عطرِ بے نسینہ
رشکِ سر بہ سینہ
میں تمہارے ہر خط کو
لوحِ دل سمجھتا ہوں
لوحِ دل جلا دوں کیا؟
جو بھی سطر ہے اِن کی
کہکشاں ہے رشتوں کی
کہکشاں گنوا دوں کیا؟
ہے سوادِ بینائی انکا جو بھی نکتہ ہے
میں اُسے گنوا دوں کیا؟
جو بھی حرف ہے ان کا
نقشِ جاں ہے جاناناں
نقشِ جاں مٹا دوں کیا؟
لوحِ دل جلا دوں کیا؟
کہکشاں لٹا دوں کیا؟
نقشِ جاں مٹا دوں کیا؟

مجھ کو لکھ کے خط جانم
اپنے دھیان میں شائد
خواب خواب جذبوں کے
خواب خواب لمحوں میں
یونہی بے خیالانہ جرم کر گئی ہو تم
اور خیال آنے پر اُس سے ڈر گئی ہو تم
جرم کے تصور میں گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں
جرم ہی کیئے تم نے
جرم! کیوں کیے جائیں؟
خط ہی کیوں لکھے جائیں۔

جان ایلیا
0 Comments

    Archives

    December 2019
    November 2019
    April 2019
    April 2014

    فہرست

    All
    ابن انشا
    احمد سلمان
    احمد ندیم قاسمی
    اردو
    اردو
    اشفاق احمد
    افتخار عارف
    اقبال ساجد
    امجد اسلام امجد
    امرتا پریتم
    انور مقصود
    بشیر بدر
    پروین شاکر
    پنجابی
    جان ایلیا
    جگر مراد آبادی
    رانا اکبر آبادی
    رشید کامل
    ساحر لدھیانوی
    شبیر حُسین شیری
    شہزاد احمد
    شہزاد احمد
    شکیب جلالی
    شِو کمار بٹالوی
    طارق عزیز
    ظفر اقبال
    عادل لکھنوی
    عالمتاب تشنہ
    عبیداللہ علیم
    عدیم ہاشمی
    کیفی اعظمی
    کلیم عاجز
    کلیم عاجز
    مبارک صدیقی
    مجاز لکھنوی
    مزاح
    معین احسن جزبی
    مومن
    ناصر کاظمی
    نظم
    نظم
    نوشی گیلانی

    RSS Feed

Powered by Create your own unique website with customizable templates.