انتخاب
  • متفرق
  • فیض احمد فیض
  • احمد فراز

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

4/3/2014

0 Comments

 
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سُنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھائوں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ھلاتے ہیں
تو مَینا اپنے بچے چھوڑ کر کوئے کے بچوں کو 
پَروں سے ڈھانپ لیتی ہے
سُنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گِر پڑے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سُنا ہے جب کِسی ندی  کے پانی میں بَئے کے گھونسلے کا گندمی سائہ لرزتا ہے
تو ندی کی رَوپہلی مچھلیاں اُس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
کوئی طوفان آجائے ، کوئی پُل ٹوٹ جائے
تولکڑی کے ِکِسی تختے پر گلہری ، سانپ ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خُدا وندا ، جلیل و معتبر ، دانا و بِینا ، منصف و اکبر
میرے اِس شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی قانون نافذ کر
سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔۔۔

انور مقصود
0 Comments

    Archives

    December 2019
    November 2019
    April 2019
    April 2014

    فہرست

    All
    ابن انشا
    احمد سلمان
    احمد ندیم قاسمی
    اردو
    اردو
    اشفاق احمد
    افتخار عارف
    اقبال ساجد
    امجد اسلام امجد
    امرتا پریتم
    انور مقصود
    بشیر بدر
    پروین شاکر
    پنجابی
    جان ایلیا
    جگر مراد آبادی
    رانا اکبر آبادی
    رشید کامل
    ساحر لدھیانوی
    شبیر حُسین شیری
    شہزاد احمد
    شہزاد احمد
    شکیب جلالی
    شِو کمار بٹالوی
    طارق عزیز
    ظفر اقبال
    عادل لکھنوی
    عالمتاب تشنہ
    عبیداللہ علیم
    عدیم ہاشمی
    کیفی اعظمی
    کلیم عاجز
    کلیم عاجز
    مبارک صدیقی
    مجاز لکھنوی
    مزاح
    معین احسن جزبی
    مومن
    ناصر کاظمی
    نظم
    نظم
    نوشی گیلانی

    RSS Feed

Powered by Create your own unique website with customizable templates.