انتخاب
  • متفرق
  • فیض احمد فیض
  • احمد فراز

فاصلے ایسے بھی ہونگے ، یہ کبھی سوچا نہ تھا

4/3/2014

0 Comments

 
فاصلے ایسے بھی ہونگے ، یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا

وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سُو
میں اُسے محسوس کرسکتا تھا چُھو سکتا نہ تھا

رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا

آج اُس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیے
آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا

یہ سبھی ویرانیاں اُس کے جُدا ہونے سے تھیں
آنکھ دُھندلائی ہوئی تھی ، شہر دُھندلایا نہ تھا

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیم
بھول جانے کے سِوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا

عدیم ہاشمی
0 Comments

    Archives

    December 2019
    November 2019
    April 2019
    April 2014

    فہرست

    All
    ابن انشا
    احمد سلمان
    احمد ندیم قاسمی
    اردو
    اردو
    اشفاق احمد
    افتخار عارف
    اقبال ساجد
    امجد اسلام امجد
    امرتا پریتم
    انور مقصود
    بشیر بدر
    پروین شاکر
    پنجابی
    جان ایلیا
    جگر مراد آبادی
    رانا اکبر آبادی
    رشید کامل
    ساحر لدھیانوی
    شبیر حُسین شیری
    شہزاد احمد
    شہزاد احمد
    شکیب جلالی
    شِو کمار بٹالوی
    طارق عزیز
    ظفر اقبال
    عادل لکھنوی
    عالمتاب تشنہ
    عبیداللہ علیم
    عدیم ہاشمی
    کیفی اعظمی
    کلیم عاجز
    کلیم عاجز
    مبارک صدیقی
    مجاز لکھنوی
    مزاح
    معین احسن جزبی
    مومن
    ناصر کاظمی
    نظم
    نظم
    نوشی گیلانی

    RSS Feed

Powered by Create your own unique website with customizable templates.