انتخاب
  • متفرق
  • فیض احمد فیض
  • احمد فراز

خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ ، بنا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

4/1/2019

1 Comment

 
خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ ، بنا کے رکھنا ، کمال یہ ھے
ھوا کی زد پہ دِیا جلانا ، جَلا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

ذرا سی لغزش پہ ، توڑ دیتے ھیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا ، کمال یہ ہے

کسی کو دینا یہ مشورہ کہ ، وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا ، کمال یہ ہے

خیال اپنا ، مزاج اپنا ، پسند اپنی ، کمال کیا ھے
جو یار چاھے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

کسی کی راہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے ، ھٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے ، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراھٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ھے

ھزار طاقت ھو، ھوں سو دلیلیں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت ، دعا کی خوشبو ، بسا کے رکھنا ، کمال یہ ھے

مبارک صدیقی
1 Comment

    Archives

    December 2019
    November 2019
    April 2019
    April 2014

    فہرست

    All
    ابن انشا
    احمد سلمان
    احمد ندیم قاسمی
    اردو
    اردو
    اشفاق احمد
    افتخار عارف
    اقبال ساجد
    امجد اسلام امجد
    امرتا پریتم
    انور مقصود
    بشیر بدر
    پروین شاکر
    پنجابی
    جان ایلیا
    جگر مراد آبادی
    رانا اکبر آبادی
    رشید کامل
    ساحر لدھیانوی
    شبیر حُسین شیری
    شہزاد احمد
    شہزاد احمد
    شکیب جلالی
    شِو کمار بٹالوی
    طارق عزیز
    ظفر اقبال
    عادل لکھنوی
    عالمتاب تشنہ
    عبیداللہ علیم
    عدیم ہاشمی
    کیفی اعظمی
    کلیم عاجز
    کلیم عاجز
    مبارک صدیقی
    مجاز لکھنوی
    مزاح
    معین احسن جزبی
    مومن
    ناصر کاظمی
    نظم
    نظم
    نوشی گیلانی

    RSS Feed

Powered by Create your own unique website with customizable templates.